ڈیرہ غازی خان کی کرن (فرضی نام) اپنی خالہ سے ملنے احمد پور آئی ہوئی تھی کہ ایک دن لنڈا بازار چلی گئی۔
عدالت نے عبداللہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی۔
عدالت نے کہا کہ طبی شہادت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے. کہ ملزم نے کرن کے ساتھ غیر فطری جنسی فعل بھی کیا ہے. اور یہ ایسا فعل ہے. کہ جو بالفرض رضامندی سے بھی کیا جائے. تب بھی یہ سنگین جرم ہی ہے۔۔۔لہذا ملزم کے خلاف ریپ اور زبردستی غیر فطری جنسی فعل دونوں الزمات ثابت ہوتے ہیں۔
عدالت نے کہا. کہ کرن کے ساتھ جنسی فعل شادی کے وعدے کے تحت کیا گیا۔ “جب کوئی شخص شادی کا جھانسہ دیکر اور عورت کو نفسیاتی طور پر دھوکہ دہی کا نشانہ بنا کر جنسی فعل کی رضا مندی حاصل کرتا ہے. تو وہ آزاد رضا مندی نہیں بلکہ ریپ ہی ہوگا”۔ مزید یہ کہ ملزم نے سیشن کورٹ میں رضا مندی کا موقف نہیں لیا بلکہ سِرے سے جنسی تعلق کا ہی انکار کیا۔
عبداللہ نے سزا کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل کردی۔ جس کی سماعت دو رکنی بنچ نے کی اور گذشتہ کل 2 مارچ 2026ء کو جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے فیصلہ سنایا۔ ہائیکورٹ میں ملزم کی طرف سے دلیل دی گئی. کہ اگر میڈیکل شہادت سے جنسی فعل ثابت بھی ہوتا ہے. تو یہ زنا بالجبر (ریپ) نہیں کیونکہ مدعیہ کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں ملے .بلکہ یہ زنا بالرضا کا کیس ہے، یوں ملزم کو کم سزا ملنی چاہیے۔
FIR
سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا تو عبداللہ نے موقف لیا کہ دراصل میں نے کرن کی چھوٹی بہن سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا. اس لیے مجھے پھنسانے اور رقم اینٹھنے کیلئے یہ FIR کروائی ہے۔ عدالت نے 8 اپریل 2025ء کو ملزم عبداللہ کو ریپ کے الزام میں 10 سال قید بامشقت اور غیر فطری جنسی عمل کے الزام میں 3 سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق کرن سے سامنے کے راستے سے جنسی فعل کا کیا جانا ثابت تو ہوا. البتہ تشدد کے نشانات نہ ملے۔ تاہم پچھلے راستے سے پرتشدد غیر فطری جنسی فعل کے آثار مل گئے۔ جائے وقوعہ سے حاصل کردہ کپڑوں پر جو مادہ منویہ کے آثار ملے. وہ عبداللہ اور کرن کے ڈی این اے سے میچ کر گئے۔
کرن کا میڈیکل ہوا. پولیس نے جائے وقوعہ سے دونوں کے کپڑے جو جنسی فعل کے دوران و بعد استعمال ہوتے رہے. بطور ثبوت قبضہ میں لیے۔ کرن کو دارالامان بھجوا دیا گیا جہاں سے اسکے والدین اسے گھر پنجاب لے آئے۔ کچھ دنوں بعد عبداللہ نے کرن سے فون پر رابطہ کیا. معافی مانگی اور کراچی آنے کو کہا۔ کرن اپنی والدہ اور دو بھائیوں کے ہمراہ کراچی آئی.اسٹیشن پر جیسے ہی اسے عبداللہ نظر آیا، پولیس کو اشارہ کیا اور وہ وہیں گرفتار ہوگیا۔
جولائی 2023
اگلے دن عبداللہ کا بہنوئی کرن کے پاس آیا. اور اسے بتایا کہ عبداللہ نے تم سے کوئی شادی نہیں کرنی. یہ 4 ہزار روپے لو اور واپس پنجاب چلی جاؤ۔ اس پر کرن نے شور مچایا، لوگ اکٹھے ہوئے پولیس آئی. کرن نے عبداللہ کیخلاف ریپ اور غیر فطری جنسی عمل کی FIR درج کروا دی۔
جولائی 2023ء میں عبداللہ نے کرن کو شادی کیلئے کراچی آنے کو کہا .اور آن لائن 6 ہزار روپے بھی بھجوائے۔ کرن کے کراچی پہنچنے پر عبداللہ نے اسے چاکیواڑہ کے علاقے میں ایک کرائے کے گھر میں رکھا .اور شادی کے وعدے پر 12 دن تک مسلسل اس کے ساتھ ہمبستری و غیر فطری جنسی فعل کرتا رہا.کرن جب بھی شادی اور گھریلو سامان کا تقاضا کرتی .وہ بات ٹال دیتا۔ 31 جولائی کو وہ گھر کو باہر سے تالا لگا کر چلا گیا اور نمبر بند کرلیا۔
وہاں عبداللہ نامی دکاندار سے کرن نے نئی شرٹس دکھانے کا کہ.عبداللہ نے بتایا کہ نئی تو ابھی نہیں ہیں آپ اپنا فون نمبر دیدیں.آئیں گی تو آپکو مطلع کردوں گا۔ یوں عبداللہ نے نمبر لیا اور آہستہ آہستہ کرن سے دوستی کرلی. کرن نے شادی کی پیشکش کی لیکن عبداللہ کی ماں نہ مانی۔ بعد ازاں عبداللہ کاروبار کے سلسلہ میں کراچی شفٹ ہوگیا. البتہ رابطہ برقرار رہا۔
