اسرائیلی حکومت کے طیارے کو برلن ایئرپورٹ پر Zion Wing
منتقل کر دیا گیا
تاہم طیارے نے جرمنی اترنے سے قبل دیگر یورپی ممالک میں اترنے کی کوشش کی. مگر اسے اجازت نا ملی۔
یہ طیارہ سرکاری دوروں اور سفارتی مشنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے. اسے صدر اور وزیر اعظم کی آمدورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے. اور جدید ترین مواصلاتی نظام سے لیس ہے. تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے. کہ قیادت ہنگامی حالات میں کام کرتی رہے۔
ابھی تک برلن ایئرپورٹ یا اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے طیارے کی موجودگی کے حوالے سے کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
Zion Wing
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ تنازعات میں طیارے کو کسی بھی میزائل کے خطرات سے بچانے کے لیے بیرون ملک منتقل کیا جا رہا تھا۔
اس کی منتقلی فوجی کشیدگی کے درمیان ہوئی. جب تہران نے اسرائیل کے اندر موجود مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کا جواب دیا۔
ایک بوئنگ 767 طیارہ جرمنی جانے سے پہلے کئی گھنٹوں تک بحیرہ روم کے اوپر پرواز کرتا رہا، ہفتے کی شام کو لڑائی کے علاقے سے دور اترا۔
اسرائیل کا سرکاری طیارہ “زیون ونگ” برلن کے بی ای آر ہوائی اڈے پر اترا، جسے اسرائیل اور امریکہ کے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر حملوں کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر اسرائیل سے باہر لے جایا گیا۔
منتقل کر دیا گیا
