امریکہ نے 40 سال پہلے یہ 20 جہاز بنائے جو اس وقت تک ناقابل شکست ہیں اور شائد آگے بھی دہائیون تک رہیں.
اگرچہ یہ مشکل ہے. لیکن ناممکن نہیں۔ روس اور چین اب ایسے “کوانٹم رڈارز” (Quantum Radars) پر کام کر رہے ہیں. جو اسٹیلتھ طیاروں کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں. لیکن ابھی تک وہ اس میں مکمل کامیاب نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اب B-21 Raider بنا لیا ہے. جو B-2 سے بھی زیادہ خطرناک اور ناقابلِ تسخیر ہے۔
کیا اس کا کوئی توڑ ہے؟
بغیر فیول بھروائے پرواز: یہ طیارہ امریکہ سے اڑ کر دنیا کے کسی بھی کونے میں بمباری کر کے واپس امریکہ پہنچ سکتا ہے. (ہوا میں ایندھن بھرنے کی سہولت کے ساتھ)۔ عراق اور افغانستان جنگوں میں اس نے امریکہ سے مسلسل 44 گھنٹے کی طویل ترین جنگی پروازیں کیں۔
انفراریڈ اخراج کا کنٹرول: اس کے انجن طیارے کے اندرونی حصے میں چھپے ہوئے ہیں. اور ان سے نکلنے والی گرم ہوا (Exhaust) کو ٹھنڈا کر کے نکالا جاتا ہے تاکہ دشمن کے “ہیٹ سیکنگ” میزائل اسے پکڑ نہ سکیں۔
:خفیہ پینٹ
اس کی باڈی پر ایک خاص قسم کا مواد (Radar Absorbent Material) چڑھا ہوا ہے. جو رڈار کی لہروں کو جذب کر لیتا ہے، انہیں منعکس (Reflect) نہیں ہونے دیتا۔

ریڈار سگنیچر (Radar Signature): اگرچہ یہ طیارہ 172 فٹ چوڑا ہے. لیکن رڈار پر یہ صرف ایک “پرندے” یا “کیڑے” جتنا نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ اس کا “فلائنگ ونگ” (Flying Wing) ڈیزائن ہے جس میں کوئی عمودی دم (Vertical Tail) نہیں ہے، جو رڈار کی لہروں کو واپس نہیں بھیجتی۔
اسکی کچھ منفرد خصوصیات
امریکہ نے اپنے F-35 اور F-15 جیسے جدید طیارے درجنوں ممالک کو بیچے، لیکن B-2 Spirit (اور اب اس کا جانشین B-21 Raider) کسی بھی قیمت پر کسی دوسرے ملک، یہاں تک کہ برطانیہ اور اسرائیل کو بھی نہیں دئیے۔
ایک جہاز کی لاگت دو ارب ڈالر ہے مطلب 600 ارب پاکستان روپے۔
