ایئر ڈیفنس سسٹم کے سائیڈ افیکٹس
دوران جنگ بیرونی خطرات سے بچاؤ کےلیے ایئر ڈیفنس سسٹم ہمیشہ ایکٹو رہتا ہے۔ کویت کو ایرانی میزائلز اور پروجیکٹائلز سے بچاؤ کےلیے ائر ڈیفنس سسٹم مجبورا آن رکھنا پڑ رہا یے. بصورت دیگر ان کے چھوٹے سے ملک کا کباڑا ہوجائے گا۔ اب یہی ایئر ڈیفنس سسٹم امریکی جہازوں کےلیے ایک خطرہ بن گیا ہے۔ جو بھی طیارہ اس کے رینج میں حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے. یہ فورا اس پر میزائل داغ دیتا ہے۔
ادھر گلف کے عرب ممالک کے ہاں بہترین اور حساس ایئر ڈیفنس ایکٹو ہیں. جو انہیں چوبیس گھنٹے ایران سے حملہ آور میزائلز اور پروجیکٹائلز سے محفوظ رکھ رہے ہیں. مگر یہی حساس ایئر ڈیفنس سسٹمز گلف ریجن میں اڑان بھرتے امریکی جنگی جہازوں کےلیے سنگین خطرہ ثابت ہورہے ہیں۔ کویت کی ایئر ڈیفنس سسٹم نے اب تک تین امریکی جنگی جہاز مار گرائے ہیں۔ امریکیوں کے مقابلے میں اسرائیلی جنگی جہاز شام اور عراق کی ایئر اسپیس سے گزر کر ایران پر حملہ آور ہورہے ہیں. جہاں کوئی ایئر ڈیفنس ایکٹو نہیں۔
حالیہ گلف کی لڑائی کے دوران
تمام ممالک اپنے حساس ایئر ڈیفنس سسٹم کو چوبیس گھنٹے آن رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ بیرونی خطرات سے بچ سکیں۔ ایران کا ایئر ڈیفنس سسٹم مقابلتا کمزور اور کم حساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے ملکی حدود کے اندر دندناتے دشمن ممالک کا ایک جنگی جہاز بھی گرانے میں ناکام رہا۔

زمانہ امن میں کم و بیش تمام ممالک اپنے حساس ایئر ڈیفنس سسٹم کو آف رکھتے ہیں تاکہ وہ مسافر جہازوں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے جنگی جہازوں کےلیے خطرہ نہ بنے۔ اگر کبھی اسے جنگی مشقوں یا جانچ پڑتال کےلیے آن کیا جاتا ہے تو احتیاط مسافر ہوائی جہازوں کو وہاں سے دور ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کےلیے باقاعدہ پہلے سے نوٹم جاری کیا جاتا ہے۔
