ایرانی بیلسٹک میزاٸلوں نے کل جس امریکی بحری بیڑے ابراہام لنکن کو نشانہ بنایا. اس کی تصدیق امریکی سینٹرل کمانڈ نے آج باضابطہ طور پہ کر دی ھے.
اذراٸلی آٸرن ڈوم گزشتہ دو دن سے کومے میں ھے۔ شنید ھے کہ شارٹ سرکٹ کے بعد نٸ واٸرنگ کھڈے لاٸن لگ چکی ھے۔ آخری بار انٹرسیپیٹر راکٹ چھوڑے گۓ .تو وہ مڑ کر قریبی آبادی پر گرے۔ مطلب پورس کے ہاتھی اپنے ہی لشکر کو روند گۓ۔ بڑی سمسیا بنی ہوٸی ھے۔ سیناگاگز میں کل سے پرارتھناٸیں جاری ہیں۔ دیوار گریہ پر کسی گھس بٹھیے نے گریس کا لیپ کر دیا ھے۔
ایک سپر سونک نے تل ابیب میں نیاتن یہو کے دفتر سے جا کر جپھی ڈالی جب وہ اہم دفاعی میٹنگ میں ابھی کرسی پہ بیٹھنے ہی والا تھا۔ ایرانی دعویٰ ھے کہ مر گیا مردود۔ لیکن ابھی تل ابیب پر سکتہ طاری ھے۔ بعض ذراٸع جرمنی میں روپوشی کا بتا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی مصدقہ نہیں ھے۔ خاموشی کا مطلب ھے کچھ نہ کچھ بڑا ہو چکا ھے جسے ابھی تک چھوٹا نہیں کیا جا سکا۔
ایرانی پاسداران
کا کہنا ھے کہ ابھی پرانا سٹاک بھی ختم نہیں ہوا۔ نۓ کی باری بعد میں آۓ گی۔ سپر سونک میزیلوں میں سے ابھی صرف دس عدد داغے گۓ ہیں. جو لانچر سے نکلنے کے بعد اپنی بھی نہیں سنتے۔ جتنی دیر میں اذراٸلی اور امریکی ریڈار ان کو دیکھتے ہیں تب تک وہ وج چکے ہوتے ہیں۔
حملے سے مضروب ہونے کے بعد ابراہام لنکن صاحب کہیں روپوش ہو چکے ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق بحالی کے امکانات صفر ہی سمجھے جانے چاہییں۔ اس جنگ میں دونوں جارح قوتیں اپنے جانی نقصان کو امریکی و اذراٸلی عوام سے کافی عرصہ تک چھپانا چاہیں گی ورنہ خدشہ ھے کہ عوامی ردعمل کی لہر رہی سہی کسر بھی نکال دے گی۔ خلیجی ممالک میں موجود ستاٸیس اڈوں پر جس دل جمعی اور لگن سے ایران نے تابڑ توڑ یلغار فرماٸی ھے اس نقصان کا تخمینہ بھی لگانا باقی ھے جو ہنوز کیموفلیج کیا جا رہا ھے۔
اور ابتداٸی پانچ فوجی ہلاکتوں کے علاوہ باقی تفصیل بیان کرنے سے گریز برتا ھے۔ ظاہر ھے کہ نقصان کی شدت اتنی زیادہ ھے کہ امریکی امیج بلڈنگ کو متاثر کرنا نہیں چاہتے۔ طیارہ بردار بحری بیڑے پر چار سے پانچ ہزار اہلکار ہوتے ہیں اور بھاری عسکری مشینری اور جنگی تنصیبات بھی ہوتی ہیں اور بیلسٹک میزاٸل کسی بھی نزاکت اور حساسیت کی پرواہ نہیں کرتا۔ انسانی جان کو وہ پہلی ترجیح پہ رکھتا ھے۔
