بھارت میں ڈاکوؤں نے امجد صابری کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ؟:امجد صابری مرحوم 23 دسمبر 1976 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔
اللہ انکی بخشش فرمائیں ۔۔۔
اور 2019ء میں انہیں کولڈ پلے نے اپنی البم میں انکا ٹریک شامل کیا۔
سال 2018ء میں انہیں بعد از مرگ ستارہِ امتیاز سے بھی نواز گیا۔
“۔۔۔one of the best known qawalli singer کو نامعلوم افراد نے کراچی میں مار دیا۔”
اندین ٹائمز نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا:
“اور آج پھر وہ دن آگیا جسے ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ہم آپ کو بہت مس کرتے ہیں۔ بھلے اپنی زندگیوں میں جتنا بھی مصروف ہوجائیں۔”
ان کی معصوم بیٹی حورین نے لکھا تھا:

دو گولیاں سر پر اور ایک کان پر لگی تھی۔انہوں نے اُسی انڈر پاس کے قریب جاں آفریں کے سُپرد کی جو اُنکے نام پر بنایا گیا تھا
انہیں 22 جون 2016ء کو دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ق،ت،ل کر ڈالا تھا
انہیں خصوصی پروٹوکل سے ہائی وے تک پہنچایا۔
Amjad Sabri late Pakistani Singer
تو قریب موجود کچھ مشکوک لوگ بھی وہاں پہنچے ،کہا جاتا ہے وہ رہزن یعنی ڈاکو تھے مگر جب انہوں نے امجد صابری کو دیکھا تو انکی عزت و تکریم بجا لاتےہُوئے
لوگوں کو پتہ چلا تو جمع ہوگئے اور پھر راستے کی تکلیف کا احساس ہوا۔
ایک ہوٹل پر رکے تو وہاں ان کے دادا کی قوالی لگی تھی۔
مگر نہ چاہتے ہوئے بھی آدھی رات کو دشوار راستوں کا سفر کیا۔
اور وہاں رات گئے سفر کرنا خطرات سے خالی نہ تھا۔
یاد رہے کہ بھارت میں جھانسی کا علاقہ ڈاکوؤں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
ایک بار وہ بھارت پروگرام کے سلسلہ میں گئے وہاں جھانسی کے علاقے میں قوالی پیش کی۔ پھر واپس دلی بھی پہنچنا تھا چونکہ پاکستانی واپسی کا ٹکٹ بھی کرا چکے تھے مگر حاضرین کے اصرار پر اضافی 3 گھنٹے لگ گئے۔
شہرت کی بلندیوں کو چھو گئے۔
پھر انہوں نے 1996ء کو اپنی پہلی البم ریلیز کی تو
پہلے پہل تو اپنے والد صاحب کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، انڈیا گئے۔
انہوں نے بچپن سے ہی اپنے والد اور چچا کے ساتھ مشقیں شروع کردی تھیں۔ اسی سلسلہ میں آدھی رات کو اٹھ کر پہلے تہجد ، نماز اور پھر ریاض کرنا پڑتا تھا۔
وہ مشہور قوال غلام فرید صابری کے بیٹے تھے۔
