یو اے ای کو پراکسی کھیلنے کا بہت شوق تھا
مسلم دنیا کے مختلف خطے اس کے ریالوں کی ریل پیل سے جہنم کدہ بنے ہوئے تھے۔ شیشوں کے محلات میں بیٹھ کر ان کا گمان تھا .کہ ہر کسی پر آسانی کے ساتھ پتھر پھینک سکتے ہیں۔
یہود و ہنود اور فرنگیوں کو انہوں نے ایسے پناہ دی ہوئی تھی. جیسے وہ ان کے داماد ہوں۔ گوادر سے لے سوڈان تک شیخ لہولہان کی داستان بکھری ہوئی تھی. لیکن کچھ اعلیٰ دماغ موقع کی تلاش میں تھے. اور انہوں نے موقع ملتے ہی چھکا لگا دیا۔ پتہ نہیں انہوں نے کیسے ایران کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی. کہ بزرگ شیطان کے اصل ٹھکانے تل ابیب میں نہیں. بلکہ آپ کے پڑوس میں پھیلے پرتعیش جزیروں میں محفوظ ہیں۔ ایران نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اتنے حملے تل ابیب پر نہیں کیے .جتنے میزائل اور ڈرون شیخ لہولہان کی طرف داغ دیئے ہیں۔ اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری چوپٹ ہورہی ہے.
پوری دنیا میں محفوظ ترین شہروں کا گھمنڈ ٹوٹ رہا ہے. سیاحت کا پروگرام وڑ چکا ہے. اور ایرانی ڈرون یو اے ای میں ایسے آزادانہ گھوم رہے ہیں. جیسے بغیر شلوار والے یوتھیے بنی گالہ میں گھومتے تھے۔ یقیناً شطرنج کی یہ بساط بہت سوچ سمجھ کر کسی بہت گیانی نے بچھائی ہے. جو کہیں تاریک کمرے میں بیٹھ کر بڑی بڑی گیمیں ڈال رہا ہے۔ 🙂
